نورخان ائیربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی کا فوجی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں: پاکستان

Calender Icon منگل 12 مئی 2026

پاکستان نے CBS News کی جانب سے نور خان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق رپورٹ کو گمراہ کن، قیاس آرائیوں پر مبنی اور سنسنی خیز قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

سرکاری ردعمل میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کی غیر مصدقہ رپورٹس خطے میں جاری امن اور استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش معلوم ہوتی ہیں۔ حکام کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے فروغ اور سفارتی رابطوں کو مضبوط بنانے کیلئے ذمہ دار اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔

بیان میں وضاحت کی گئی کہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد مذاکرات کے ابتدائی مرحلے کے دوران ایران اور امریکا سے متعدد طیارے پاکستان آئے تھے، جن کا مقصد مذاکراتی عمل سے وابستہ سفارتی عملے، سکیورٹی ٹیموں اور انتظامی اہلکاروں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنا تھا۔

حکام کے مطابق مذاکرات کے اگلے مراحل کی توقع کے پیش نظر بعض طیارے اور معاون عملہ عارضی طور پر پاکستان میں موجود رہے۔ اگرچہ باضابطہ مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوئے، تاہم اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے اور تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری رہا۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا عیدالاضحیٰ سے قبل سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہیں اور پنشن پیشگی ادا کرنے کا فیصلہ

سرکاری مؤقف میں کہا گیا کہ عباس عراقچی کے اسلام آباد کے حالیہ دوروں کو بھی انہی انتظامی اور لاجسٹک انتظامات کے تحت سہولت فراہم کی گئی۔

پاکستان نے واضح کیا کہ اس وقت پاکستان میں موجود ایرانی طیارے جنگ بندی کے دوران آئے تھے اور ان کا کسی فوجی حکمت عملی، ہنگامی منصوبے یا عسکری سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اس کے برعکس تاثر دینا حقائق کے منافی اور محض قیاس آرائی ہے۔

حکام نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ غیر جانبدار، شفاف اور ذمہ دار ثالث کے طور پر کردار ادا کیا ہے اور تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے صرف معمول کے انتظامی اور لاجسٹک تعاون کو یقینی بنایا گیا۔

بیان کے اختتام پر پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے اور دنیا میں امن، استحکام، کشیدگی میں کمی اور بامعنی مذاکرات کے فروغ کیلئے ہر مخلصانہ کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔