بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) اور چینی صدر شی جن پنگ(Xi Jinping) کی ملاقات کے دوران جہاں دونوں رہنما کیمروں کے سامنے دوستی، تعاون اور شراکت داری کے پیغامات دیتے رہے، وہیں پس پردہ امریکی اور چینی سکیورٹی اداروں کے درمیان شدید کشیدگی، بداعتمادی اور خفیہ مقابلہ بھی جاری رہا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اس دورے کے دوران کئی ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خفیہ جنگ اور سفارتی تناؤ کو واضح کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق بیجنگ میں ہونے والی اس اہم سربراہی ملاقات کے دوران امریکی اور چینی سکیورٹی اہلکار متعدد مواقع پر آمنے سامنے آ گئے۔ ایک موقع پر امریکی سیکرٹ سروس کے ایک اہلکار کو اسلحہ لے جانے سے روکنے پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان طویل بحث اور تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
اے ایف پی کے مطابق امریکی وفد اور صحافیوں کو چین روانگی سے قبل خصوصی ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ سائبر سکیورٹی خطرات کے پیش نظر عارضی یا “برنر فونز” اور مخصوص لیپ ٹاپ استعمال کریں تاکہ واپسی پر انہیں آسانی سے تلف یا صاف کیا جا سکے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دورے کے اختتام پر امریکی حکام نے اپنے عملے اور میڈیا نمائندوں، جن میں اے ایف پی کا رپورٹر بھی شامل تھا، سے چینی حکام کی جانب سے دیے گئے تمام بیجز، تحائف اور پنز واپس لے لیے۔ بعد ازاں ان اشیا کو ایئر فورس ون کے قریب ایک کوڑے دان میں پھینک دیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ چینی صدر شی جن پنگ نے ملاقات کے دوران امریکا اور چین کو “حریف نہیں بلکہ شراکت دار” قرار دیا، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیے۔ دونوں ممالک کے درمیان خفیہ معلومات، سکیورٹی نگرانی اور انٹیلی جنس سرگرمیوں پر بداعتمادی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہر ملاقات ایک محتاط سفارتی معرکے کا منظر پیش کرتی ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر کمی کردی
بیجنگ کے ٹیمپل آف ہیون میں دونوں رہنماؤں کے دورے کے دوران ایک اور ناخوشگوار صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب چینی حکام نے امریکی صحافیوں اور عملے کو ایک کمرے میں روک دیا۔ ایک امریکی صحافی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ “ہم صدر کے قافلے کے ساتھ ہیں، کیا آپ کو یہ سمجھ نہیں آ رہا؟” جس پر ایک چینی اہلکار نے جواب دیا کہ “ہماری سکیورٹی اس کی اجازت نہیں دیتی۔”
رپورٹ کے مطابق صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب امریکی عملے نے چینی اہلکاروں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے اپنی گاڑیوں تک پہنچنے کی کوشش کی تاکہ وہ صدارتی قافلے سے پیچھے نہ رہ جائیں۔ ایک امریکی اہلکار نے اپنے ساتھیوں سے کہا، “ہم جا رہے ہیں، نرمی سے چلیں لیکن کسی کو ہم پر وہ کچھ نہ کرنے دیں جو انہوں نے ہمارے ساتھ کیا۔”
یہ جملہ غالباً اس واقعے کی طرف اشارہ تھا جو اس سے پہلے گریٹ ہال آف دی پیپل میں پیش آیا تھا، جہاں ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات کی ویڈیو بنانے کے لیے صحافیوں کے رش کے دوران ایک امریکی اہلکار گر گئی تھی اور اس کے ٹخنے پر لوگوں کے پاؤں پڑ گئے تھے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ٹیمپل آف ہیون کے مقام پر امریکی اور چینی حکام کے درمیان اس بات پر بھی تقریباً آدھے گھنٹے تک شدید بحث جاری رہی کہ آیا امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکار کو اسلحہ لے کر اندر جانے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔ شدید گرمی کے باوجود دونوں جانب سے کوئی لچک نہ دکھائی گئی اور چینی حکام مسلسل اپنے مؤقف پر قائم رہے۔
دورے کے دوران تقریباً ہر مرحلے پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان اوقات، پروٹوکول، ملاقاتوں کی ترتیب اور اچانک شیڈول تبدیلیوں پر اختلافات دیکھنے میں آئے۔ امریکی اور چینی حکام اکثر اپنے تعلقات میں “باہمی برابری” یا “ریسیپروسٹی” کی بات کرتے ہیں، تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہی اصول اب سخت مقابلے اور حساسیت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس تمام صورتحال کے باوجود دونوں ممالک تعلقات کو مکمل تصادم کی طرف جانے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں چینی صدر شی جن پنگ کے آئندہ ستمبر میں وائٹ ہاؤس کے متوقع دورے کو بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ایک بار پھر دونوں طاقتوں کے درمیان سفارت کاری اور سکیورٹی معاملات عالمی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔












ہفتہ 16 مئی 2026 