انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے گورننس سے متعلق خدشات کے باعث کرکٹ کینیڈا کی مالی معاونت معطل کر دی ہے، جس کے بعد بورڈ کو آئندہ چھ ماہ تک فنڈنگ سے محروم رہنا پڑے گا۔
اس فیصلے سے کرکٹ کینیڈا کی مالی صورتحال پر نمایاں دباؤ پڑنے کا امکان ہے، کیونکہ ادارہ اپنی آمدن کے بڑے حصے کے لیے آئی سی سی پر انحصار کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس ہفتے کرکٹ کینیڈا کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا۔ اگرچہ فنڈنگ روک دی گئی ہے، تاہم اس سے ملک میں کرکٹ سرگرمیوں، بشمول ہائی پرفارمنس پروگرامز، پر فوری اثر نہیں پڑے گا۔ اس کے باوجود یہ اقدام ایسوسی ایٹ ممبر کے لیے ایک بڑا مالی دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کرکٹ کینیڈا کی 2024 کی مالی رپورٹ میں ظاہر کیا گیا کہ ادارے کی مجموعی آمدن 5.7 ملین کینیڈین ڈالر تھی، جس میں سے تقریباً 3.6 ملین ڈالر یعنی 63 فیصد حصہ آئی سی سی سے حاصل ہوا۔ اس انحصار کے باعث فنڈنگ کی معطلی ادارے کے لیے زیادہ سنگین سمجھی جا رہی ہے۔
آئی سی سی نے اگرچہ گورننس میں سامنے آنے والی مخصوص خامیوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم میڈیا رپورٹس میں مالی نگرانی، انتظامی شفافیت اور پالیسی خلاف ورزیوں سے متعلق خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کرکٹ کینیڈا کے اندر گورننس اور مالی معاملات میں کمزوریوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
مزیدپڑھیں:گوگل کا بڑا فیصلہ زیر غور، مفت کلاؤڈ اسٹوریج 5 جی بی تک محدود ہونے کاامکان
گزشتہ کچھ عرصے سے کرکٹ کینیڈا مختلف تنازعات اور اندرونی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کی بھی آئی سی سی کی اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور معاملے میں سابق کوچ خرم چوہان کی ایک لیک ہونے والی آڈیو کے بعد کھلاڑیوں کے انتخاب اور مبینہ دباؤ سے متعلق الزامات پر بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔
اسی آڈیو میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ بعض سابق بورڈ ارکان ٹیم سلیکشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے رہے اور ممکنہ طور پر میچ فکسنگ سے متعلق خدشات بھی موجود ہیں، جس نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
ادارتی سطح پر بھی عدم استحکام دیکھا گیا ہے۔ سابق سی ای او سلمان خان کی تعیناتی اور بعد میں برطرفی اس وقت تنازع کا باعث بنی جب ان پر ماضی میں مجرمانہ مقدمات ظاہر نہ کرنے کے الزامات سامنے آئے۔ بعد ازاں ان پر کینیڈا میں چوری اور دھوکہ دہی کے مقدمات بھی درج کیے گئے، تاہم انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
کرکٹ کینیڈا کی حالیہ سالانہ جنرل میٹنگ کے بعد بورڈ نے اصلاحات اور انتظامی بہتری کے اقدامات کا اعلان کیا اور نیا نو رکنی بورڈ منتخب کیا گیا۔ آروندی خورسا کو مستقل صدر منتخب کیا گیا، جو پہلے عبوری ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔
آئی سی سی نے اس تمام صورتحال کے باوجود فنڈنگ معطل رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے اور کرکٹ کینیڈا سے اصلاحات کے نفاذ اور شفافیت بہتر بنانے کی توقع ظاہر کی ہے۔












ہفتہ 16 مئی 2026 