ٹرمپ کا دعویٰ: پاکستان کی درخواست پر ایران سے جنگ بندی پر آمادہ ہوئے

Calender Icon ہفتہ 16 مئی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Trump) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ان کی ذاتی خواہش نہیں تھی بلکہ پاکستان سمیت چند دوست ممالک کی سفارتی کوششوں کے باعث امریکا اس پر آمادہ ہوا۔

چین کے دورے سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، تاہم اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول ایک ماہ کی جنگ بندی کے دوران ایران نے کچھ حد تک اپنی پوزیشن سنبھالی ہوگی، اس لیے مستقبل میں “کلیئر اپ آپریشن” کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ خود ایران کے ساتھ جنگ بندی کے حامی نہیں تھے، لیکن پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور قطر جیسے ممالک کی اپیل اور سفارتی رابطوں کے بعد امریکا نے یہ قدم اٹھایا۔

مزید پڑھیں؛یوگنڈا کےآرمی چیف کی اطالوی وزیراعظم کو 100 گائیوں کے عوض شادی کی پیشکش

دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کے بیانات کو “نفسیاتی دباؤ ڈالنے کی کوشش” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر برقرار ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور قطر نے پسِ پردہ سفارتی سرگرمیوں کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔