68فیصد پاس ورڈزایک دن میں ہیک ہو سکتے ہیں، سائبر سیکیورٹی رپورٹ انکشاف

Calender Icon اتوار 17 مئی 2026

سائبر سکیورٹی کمپنی کاسپرسکی کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے 68 فیصد پاس ورڈز (passwords) ایک دن کے اندر ہیک کیے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صارفین کی جانب سے آسان نمبرز، عام الفاظ اور مخصوص علامات کے استعمال نے سائبر حملہ آوروں کے لیے پاس ورڈ توڑنا انتہائی آسان بنا دیا ہے۔

سائبر سیکیورٹی کمپنی کی جانب سے 2023 سے 2026 کے دوران لیک ہونے والے 23 کروڑ 10 لاکھ منفرد پاس ورڈز کے تجزیے میں کئی تشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جدید دور میں استعمال ہونے والے 68 فیصد پاس ورڈز ایک دن کے اندر توڑے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر متاثرہ پاس ورڈز یا تو کسی ہندسے سے شروع ہوتے ہیں یا پھر ہندسے پر ختم ہوتے ہیں، جو صارفین کی ایک عام عادت ہے اور یہی بات انہیں ’بروٹ فورس‘ حملوں کے لیے آسان ہدف بنا دیتی ہے۔

رپورٹ میں کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں محفوظ پاس ورڈز کے اصولوں پر کافی بحث ہوئی اور متعدد آن لائن سروسز اب کم از کم 10 حروف، ایک بڑا حرف اور کوئی نمبر یا علامت شامل کرنے کی شرط عائد کرتی ہیں، تاہم صرف ان اصولوں پر عمل کرنا بھی مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں۔

رپورٹ کے مطابق صرف ایک علامت استعمال کرنے والے پاس ورڈز میں ’@‘ سب سے زیادہ عام تھا، جو 10 فیصد کیسز میں دیکھا گیا، جبکہ ’.‘ 3 فیصد پاس ورڈز میں شامل تھا۔ اسی طرح 53 فیصد پاس ورڈز اعداد پر ختم ہوتے ہیں، 17 فیصد اعداد سے شروع ہوتے ہیں اور تقریباً 12 فیصد میں تاریخ جیسی عددی ترتیب شامل ہوتی ہے۔

ماہرِ ڈیٹا سائنس الیکسی انتونوف کے مطابق عام علامات، نمبرز یا تاریخوں کا استعمال، خاص طور پر پاس ورڈ کے آغاز یا اختتام پر، سائبر مجرموں کے لیے پاس ورڈ ہیک کرنا انتہائی آسان بنا دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بروٹ فورس حملوں میں کمپیوٹر مسلسل مختلف حروف اور نمبرز آزما کر درست پاس ورڈ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، اور جب حملہ آوروں کو صارفین کی عام عادات کا اندازہ ہو تو پاس ورڈ توڑنے میں بہت کم وقت لگتا ہے۔

مزید پڑھیں:’’پاکستان میں تبدیلی نہیں آنے دی جاتی”، شبر زیدی کا چونکا دینے والا بیان

تحقیق کے مطابق 8 حروف تک کے مختصر پاس ورڈز عام طور پر ایک دن سے بھی کم وقت میں ہیک کیے جا سکتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید الگورتھمز کی وجہ سے 15 حروف پر مشتمل 20 فیصد سے زائد پاس ورڈز بھی ایک منٹ سے کم وقت میں توڑے جا سکتے ہیں۔