نوید قمر (Naveed Qamar)نے معاشی اصلاحات اور بجٹ تیاریوں پر حکومتی کارکردگی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ مالی حکمتِ عملی کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بالواسطہ ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی پر بڑھتا ہوا انحصار معیشت کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ ان کے مطابق ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے بجائے عوام پر مسلسل اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
Federal Board of Revenue کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ادارہ رواں مالی سال کے 10 ماہ میں 680 ارب روپے سے زائد ٹیکس شارٹ فال پورا کرنے میں ناکام رہا ہے، جو کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے۔
مزید پڑھیں؛شیڈو بجٹ میں برآمدات 80 ارب ڈالر تک بڑھانے کی تجویز
نوید قمر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ حکومت مقررہ وقت یعنی 10 مئی تک بجٹ اسٹریٹیجی پیپر جاری کرنے میں ناکام رہی، جو مالی منصوبہ بندی کے عمل میں تاخیر کو ظاہر کرتا ہے۔
اجلاس میں Federal Board of Revenue کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں کمی کا امکان ہے، جبکہ مختلف شہروں میں پراپرٹی ویلیوایشن ریٹس بھی کم کیے جا چکے ہیں۔












منگل 26 مئی 2026 