افغان طالبان (Afghan Taliban)کے زیرِ اقتدار افغانستان ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں دہشتگرد تنظیموں کی بڑھتی سرگرمیوں پر روس نے بھی شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ روسی حکام کے حالیہ بیانات کو پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی تائید قرار دیا جا رہا ہے۔
روسی جریدے کے مطابق روسی خفیہ ایجنسی ایف ایس بی نے انکشاف کیا ہے کہ داعش خراسان افغانستان میں اپنی سرگرمیاں تیزی سے بڑھا رہی ہے اور وسطی ایشیائی ممالک کے شہریوں سمیت روسی مزدوروں کو بھی دہشتگرد نیٹ ورکس میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایف ایس بی کے سربراہ الیگزینڈر بورٹنیکوف کے مطابق داعش خراسان تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان، قازقستان اور روس سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھرتی کر رہی ہے، جبکہ وسطی ایشیا میں خفیہ دہشتگرد نیٹ ورکس قائم کرنے اور حملوں کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔
مزید پڑھیں؛افزودہ یورینیم پر امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، ایران کا واضح مؤقف
انہوں نے بتایا کہ تاجکستان اور ازبکستان میں دہشتگردی کے بڑے منصوبے بروقت ناکام بنائے گئے۔ ان کے بقول خطے میں دہشتگردی کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے، تاکہ افغانستان میں سیاسی استحکام پیدا ہو اور کابل و اسلام آباد کے تعلقات میں بہتری لائی جا سکے۔
روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے بھی خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشتگرد گروہوں کے ہزاروں جنگجو موجود ہیں، جو پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
پاکستان طویل عرصے سے افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں اور سرحد پار دہشتگردی کے خطرات کی نشاندہی کرتا آ رہا ہے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہان متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ کئی علاقائی اور عالمی دہشتگرد گروہ افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔
ماہرین کے مطابق اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس اور دیگر عالمی جائزوں میں بھی افغانستان میں مختلف دہشتگرد تنظیموں اور ہزاروں جنگجوؤں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ داعش خراسان کا اثر و رسوخ اب وسطی ایشیا تک پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔












بدھ 27 مئی 2026 