برطانیہ میں سرکاری اعدادو شمار میں شرح پیدائش(birth rate) گزشتہ برس نصف صدی میں کم ترین سطح پر آنے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ غیر ملکیوں کی شرح پیدائش میں تیزی کے ساتھ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال انگلینڈ اور ویلز میں 5 لاکھ 85 ہزار سے زائد بچے پیدا ہوئے، ایک سال قبل 5 لاکھ 94 ہزار 677 ریکارڈ کی گئی تھیں۔
1976ء کے بعد مذکورہ شرح سب سے کم ترین مانی جا رہی ہے جبکہ 100 برسوں میں چوتھی کم ترین سطح بھی ہے، اعداد و شمار سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ سال 2025ء میں 40 فیصد پیدائشیں (235،273) ایسے والدین کی تھیں جہاں ایک یا دونوں غیر ملکی پیدا ہوئے، یہ 2008ء کے بعد سب سے زیادہ تناسب ہے۔
برطانیہ میں جی سیون ممالک کی بہ نسبت شرح پیدائش میں کمی، بڑی عمر میں ماں بننے کا رجحان
دفتر برائے قومی شماریات کے مطابق انگلینڈ اور ویلز کے ایک درجن علاقوں میں تین چوتھائی سے زیادہ پیدائشیں ایسے والدین سے تھیں جہاں کم از کم ایک غیر ملکی پیدا ہوا تھا، 50 سے زیادہ علاقوں میں نصف سے زیادہ پیدائشوں کی شرح کا بھی یہی حال تھا۔
لندن بورو آف برینٹ میں پیدائش کا سب سے بڑا تناسب (84 فیصد) ریکارڈ کیا گیا جہاں کم از کم ایک والدین غیر ملکی تھے، سٹی آف لندن 69 میں سے 58 پیدائش لندن بورو آف ہیرو83.7 فیصد 3311 میں سے 2771 برکشائر میں سلوو نے سب سے زیادہ شرح (79.2 فیصد یعنی 2272 میں سے 1800) لوٹن (78.1 فیصد 3481 میں سے 2720) اور لیسٹر (4454 میں سے 72.4 فیصد 3223) ریکارڈ کی گئی۔
مزید پڑھیں:مومنہ اقبال کی دعائے خیر کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل
غیر ملکی پیدا ہونے والی ماؤں (4.7 فیصد) اور باپ (4.9 فیصد) کے لیے ہندوستان سرفہرست جبکہ ماں اور باپ دونوں میں پاکستان دوسرے اور نائجیریا تیسرے نمبر پر رہا ہے۔












اتوار 31 مئی 2026 