ایران(Iran) میں سیاسی قیادت اور طاقت کے مراکز سے متعلق ایک اہم خبر نے عالمی میڈیا میں توجہ حاصل کر لی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان(Masoud Pezhikian) نے مبینہ طور پر سپریم لیڈر کے دفتر کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے، تاہم صدارتی دفتر نے ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بعض ذرائع نے دعویٰ کیا کہ صدر پزشکیان نے ایک خط میں ملک کی داخلی صورتحال اور فیصلہ سازی کے نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم ریاستی فیصلوں میں ان سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ اختیارات کا مرکز زیادہ تر پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز کے پاس منتقل ہو چکا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مبینہ خط میں صدر کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ موجودہ حالات میں وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر طور پر ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے، جس کے باعث انہوں نے استعفیٰ دینے کی خواہش ظاہر کی۔
مزیدپڑھیں:دعا لیپا اور کالم ٹرنر رشتہ ازدواج میں بندھ گئے
تاہم اس خبر کے منظر عام پر آنے کے فوراً بعد ایرانی صدارتی دفتر اور سرکاری میڈیا نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ حکام کے مطابق صدر مسعود پزشکیان اپنے معمول کے سرکاری فرائض انجام دے رہے ہیں اور استعفیٰ سے متعلق خبریں بے بنیاد اور من گھڑت پروپیگنڈا ہیں۔
Iran’s president has reportedly asked to resign, citing a loss of authority inside the country’s ruling system.
According to reports, Masoud Pezeshkian told the Supreme Leader’s office that he and his government have been excluded from major decision-making, leaving him unable… pic.twitter.com/ronp6oNvrI
— Fox News (@FoxNews) May 31, 2026
رپورٹس کے مطابق یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیاسی کشیدگی اور سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی پیچیدہ ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق ایران میں مختلف ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کے توازن پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے، جس نے اس طرح کی خبروں کو مزید توجہ دلائی ہے۔
دوسری جانب حکومتی موقف کے مطابق صدر اور دیگر ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور کسی بھی قسم کے استعفیٰ یا اختلاف کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔
🔴 The head of the Iranian government’s Information Council has denied reports by what he described as “some foreign media outlets” claiming that President Masoud Pezeshkian has resigned
🔴 Claims that Pezeshkian has stepped down “bear no relation to reality,” Elias Hazrati… pic.twitter.com/Pz80SLeP79
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) May 31, 2026
یہ خبر سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے پھیل گئی، جہاں صارفین کی جانب سے مختلف آراء اور قیاس آرائیاں سامنے آئیں، تاہم سرکاری تردید کے بعد معاملہ مزید وضاحت طلب بحث میں تبدیل ہو گیا ہے۔












پیر 1 جون 2026 