ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی استعفیٰ کی خبروں کی تردید

Calender Icon پیر 1 جون 2026

ایران(Iran) میں سیاسی قیادت اور طاقت کے مراکز سے متعلق ایک اہم خبر نے عالمی میڈیا میں توجہ حاصل کر لی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان(Masoud Pezhikian) نے مبینہ طور پر سپریم لیڈر کے دفتر کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے، تاہم صدارتی دفتر نے ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بعض ذرائع نے دعویٰ کیا کہ صدر پزشکیان نے ایک خط میں ملک کی داخلی صورتحال اور فیصلہ سازی کے نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم ریاستی فیصلوں میں ان سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ اختیارات کا مرکز زیادہ تر پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز کے پاس منتقل ہو چکا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مبینہ خط میں صدر کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ موجودہ حالات میں وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر طور پر ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے، جس کے باعث انہوں نے استعفیٰ دینے کی خواہش ظاہر کی۔

مزیدپڑھیں:دعا لیپا اور کالم ٹرنر رشتہ ازدواج میں بندھ گئے

تاہم اس خبر کے منظر عام پر آنے کے فوراً بعد ایرانی صدارتی دفتر اور سرکاری میڈیا نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ حکام کے مطابق صدر مسعود پزشکیان اپنے معمول کے سرکاری فرائض انجام دے رہے ہیں اور استعفیٰ سے متعلق خبریں بے بنیاد اور من گھڑت پروپیگنڈا ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیاسی کشیدگی اور سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی پیچیدہ ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق ایران میں مختلف ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کے توازن پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے، جس نے اس طرح کی خبروں کو مزید توجہ دلائی ہے۔

دوسری جانب حکومتی موقف کے مطابق صدر اور دیگر ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور کسی بھی قسم کے استعفیٰ یا اختلاف کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

یہ خبر سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے پھیل گئی، جہاں صارفین کی جانب سے مختلف آراء اور قیاس آرائیاں سامنے آئیں، تاہم سرکاری تردید کے بعد معاملہ مزید وضاحت طلب بحث میں تبدیل ہو گیا ہے۔