سورج سے اٹھنے والا خوفناک طوفان زمین کی جانب گامزن، ناسا کا الرٹ جاری

Calender Icon منگل 9 جون 2026

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا(Nasa) اور سپیس ویدر پریڈکشن سینٹر نے سورج سے خارج ہونے والے ایک طاقتور کورونل ماس ایجیکشن (سی ایم ای) کے زمین کی جانب بڑھنے پر شدید نوعیت کے جیو میگنیٹک طوفان جی 3 کا الرٹ جاری کر دیا۔
ماہرین کے مطابق سورج گزشتہ کئی روز سے غیر معمولی سرگرمیوں کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اس کی سطح سے مسلسل توانائی اور مقناطیسی گیسوں کا اخراج ہو رہا ہے، 6 جون 2026 کو سورج کے ایک مخصوص حصے ایکٹو ریجن 4461 میں درمیانے درجے کا ایک زوردار سولر فلیر ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں مقناطیسی گیسوں اور چارج شدہ ذرات کا ایک بڑا بادل خلا میں خارج ہوا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس شمسی طوفان میں ایک گھنا اور انتہائی تیز رفتار فلامنٹ بھی شامل ہے، جو تقریباً 1400 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے زمین کے قریب پہنچ چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ خلائی موسمیاتی ماہرین نے اس کی شدت کو جی 3 درجے کا طاقتور مقناطیسی طوفان قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب سورج سے آنے والے چارج شدہ ذرات زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکراتے ہیں تو فضا میں جیو میگنیٹک سٹورم پیدا ہوتا ہے، اس عمل کے دوران ذرات زمین کے بالائی ماحول میں موجود گیسوں سے تعامل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں سبز، سرخ اور جامنی رنگ کی دلکش روشنیاں جنہیں ارورا یا قطبی روشنیاں کہا جاتا ہے، آسمان پر نمودار ہوتی ہیں۔

مزیدپڑھیں:قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس پھر مؤخر

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر طوفان کی شدت میں مزید اضافہ ہوا تو یہ روشنیاں قطبی علاقوں سے باہر بھی دیکھی جا سکتی ہیں، چین، بھارت کے بعض حصوں، وسطی یورپ، جنوبی آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکا کے مختلف علاقوں میں صاف اور تاریک آسمان کی صورت میں ارورا کے دلکش مناظر دیکھے جانے کا امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق اس طوفان کے حتمی اثرات کا درست اندازہ اس وقت لگایا جا سکے گا جب شمسی مواد زمین کے قریب موجود سیٹلائٹس تک پہنچے گا، اس مرحلے پر زمین سے ٹکراؤ سے تقریباً 15 سے 60 منٹ قبل اس کی شدت اور ممکنہ اثرات کے بارے میں زیادہ واضح معلومات حاصل ہوں گی۔

یاد رہے کہ مئی 2024 میں بھی اسی نوعیت کے ایک شدید شمسی طوفان نے دنیا کے مختلف خطوں میں آسمان کو رنگین روشنیوں سے بھر دیا تھا، فلکیات کے ماہرین اور فوٹوگرافی کے شوقین افراد اس نئے طوفان کے اثرات کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ اس نایاب قدرتی منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔