حکومت خیبرپختونخوا نے مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی اور اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان (Dera Ismail Khan)میں ہندو اور سکھ برادری کے لیے شمشان گھاٹوں کے قیام کی غرض سے چار کنال اراضی حوالہ کر دی ہے۔
اس اراضی میں سے دو کنال ہندو برادری جبکہ دو کنال سکھ برادری کے لیے مختص کی گئی ہے۔
اراضی حوالگی کی تقریب میں صوبائی وزیر برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور صاحبزادہ محمد عدنان قادری نے اقلیتی برادریوں کے نمائندگان، منتخب عوامی نمائندوں، مذہبی رہنماؤں، مقامی عمائدین اور اعلیٰ سرکاری حکام کی موجودگی میں اراضی باضابطہ طور پر حوالے کی۔
اس موقع پر صوبائی وزیر عدنان قادری نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا تمام شہریوں کے آئینی اور مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور مذہب، نسل یا عقیدے کی بنیاد پر کسی قسم کا امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جانب عملی پیش رفت ہے جہاں تمام شہریوں کو مساوی احترام، تحفظ اور ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادریاں پاکستان کے سماجی ڈھانچے کا اہم حصہ ہیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں ان کا کردار ہمیشہ قابل قدر رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:ایران نے 6 جولائی کو تہران میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا
انہوں نے بتایا کہ اقلیتی عبادت گاہوں میں مذہبی تہواروں کے انعقاد کے لیے 61 ملین روپے کا خصوصی سپورٹ پروگرام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ انٹرمیڈیٹ سے پی ایچ ڈی سطح تک اقلیتی طلبہ کے لیے اسکالرشپ پروگرام بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ بیواؤں، یتیم بچوں، مستحق خاندانوں اور خصوصی افراد کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
عدنان قادری نے مزید کہا کہ اقلیتی نوجوانوں کے لیے سی ایس ایس اور پی ایم ایس امتحانات کی تیاری کے خصوصی تربیتی پروگرام شروع کیے گئے ہیں، دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتوں کے لیے 200 ملین روپے اور کیلاش کمیونٹی کے لیے 100 ملین روپے کے اینڈومنٹ فنڈز قائم کیے گئے ہیں۔ مختلف اضلاع میں اقلیتی قبرستانوں، عبادت گاہوں اور شمشان گھاٹوں کے لیے اراضی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ 500 ملین روپے سے زائد مالیت کے منصوبے کے تحت اقلیتی عبادت گاہوں اور رہائشی آبادیوں کی بحالی و مرمت بھی جاری ہے۔
عدنان قادری نے کہا کہ حکومت اقلیتی مذہبی رہنماؤں کو ماہانہ مالی معاونت فراہم کر رہی ہے جبکہ صوبے بھر میں اقلیتی عبادت گاہوں کی سولرائزیشن کا منصوبہ بھی شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے صوبائی و ضلعی بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹیاں، اقلیتی مشاورتی کمیٹیاں اور اقلیتی ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ اقلیتی برادریوں کے مسائل کو مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے مذہبی رواداری، باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔












بدھ 1 جولائی 2026 