پیٹرولیم مصنوعات(petroleum products) کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عام شہریوں تک نہ پہنچ سکے، روزمرہ کی ضروری اشیاء میں کمی کے بجائے قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی کے بعد غریب اور متوسط طبقے کو امید ہو چلی تھی کہ روزمرہ کی اشیاء ضروریہ کی قیمتیں معمول پر آجائیں گی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔
شہری کہتے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گراوٹ کے باوجود آج بھی منافع خوروں کے رحم و کرم پر ہیں۔
مزیدپڑھیں:فرانس: شرحِ پیدائش بڑھانے کیلئے والدین کو اضافی تنخواہ سمیت چھٹی دینے کا اعلان
حیدرآباد کے شہریوں کا کہنا ہے کہ دودھ آج بھی 240 روپے لیٹر، دہی 340 روپے کلو، چینی 140سے 150 روپے جبکہ گھی 590 روپے سے 600 روپے اور تیل 600 سے 700 روپے کلو میں فروخت کیا جارہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور ادارے منافع خوروں کے خلاف کارروائی کر کے شہریوں کو ریلیف دے سکتے ہیں۔
دوسری جانب کراچی میں بھی سبزیوں اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ شہر میں ٹماٹر 300 روپے کلو فروخت کیے جارہے ہیں جبکہ دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی کمی نہیں کی گئی ہے۔












جمعرات 2 جولائی 2026 