اسلام آباد: اسلحہ لائسنسوں کی کمپیوٹرائزیشن میں بڑے پیمانے پر بےضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ریکارڈ میں سنگین بےضابطگیوں پر انتظامیہ نے آڈٹ اعتراض تسلیم کرلیا۔
آڈٹ میں اسلحہ لائسنسوں کی کمپیوٹرائزیشن میں ہزاروں اضافی مشکوک لائسنس کا انکشاف سامنے آیا، 9 ہزار 291 اضافی مشکوک اسلحہ لائسنسوں کا سراغ لگایا گیا۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارتِ داخلہ نے جتنے اسلحہ لائسنس جاری کیے، نادرا نے اس سے زیادہ کمپیوٹرائز کر دیے، 44 ہزار 250 ممنوعہ بور لائسنس کمپیوٹرائز ہوئے جبکہ اصل جاری اسلحہ لائسنس کی تعداد صرف 36 ہزار 497 تھی۔
رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک لاکھ 86 ہزار سے زائد اسلحہ لائسنس کمپیوٹرائز، 10 ہزار 464 بعد میں جعلی قرار پائے، ممنوعہ بور لائسنسوں میں7 ہزار 753 کا اضافی فرق ہے۔
مزید پڑھیں:پنجاب، بیوٹی کریمز میں پارہ، 3 مخصوص مصنوعات کے بیچز واپس منگوا لیے گئے
اسلحہ لائسنسوں کے ریکارڈ میں سنگین بےضابطگیوں پر انتظامیہ نے آڈٹ اعتراض تسلیم کرلیا اور اسلحہ لائسنسوں کی کمپیوٹرائزیشن کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا گیا ہے۔












بدھ 15 جولائی 2026 


