واٹس ایپ کے یوزرنیم فیچر سے کئی ممالک پریشان، خدشات کیا ہیں؟

Calender Icon جمعرات 23 جولائی 2026

واٹس ایپ(whatsapp username) کے یوزرنیم فیچر پر متعدد ممالک نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تبدیلی دہشتگردی، مالی فراڈ اور سائبر جرائم کے خلاف جاری کارروائیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔

صومالیہ کی حکومت نے اس معاملے پر میٹا سے باضابطہ رابطہ کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فیچر متعارف کرانے سے پہلے اس کے سیکیورٹی پہلوؤں پر اطمینان بخش وضاحت فراہم کی جائے۔

صومالی وزیر برائے مواصلات و ٹیکنالوجی احمد عثمان دیری کا کہنا ہے کہ اگر صارفین فون نمبر کے بجائے صرف یوزرنیم کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں گے تو مجرموں اور دہشتگرد عناصر کا سراغ لگانا پہلے سے زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ صومالیہ کی صورتحال دنیا کے کئی دوسرے ممالک سے مختلف ہے کیونکہ ملک 2 دہائیوں سے القاعدہ سے وابستہ شدت پسند تنظیم الشباب کی شورش کا سامنا کر رہا ہے جبکہ معیشت کا بڑا حصہ موبائل منی سروسز پر انحصار کرتا ہے۔

احمد عثمان دیری کے مطابق اگر صارفین ایسے یوزرنیم استعمال کریں جن کی شناخت آسانی سے نہ ہو سکے تو مالی فراڈ، جعلسازی اور شہریوں کو دھوکا دینے کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:مون سون کا دھواں دھار اسپیل جاری، بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرآب

خیال رہے کہ صومالیہ میں شدت پسند تنظیم الشباب ماضی میں بھی واٹس ایپ کو بھتہ خوری، دھمکیوں اور اپنی تشہیری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ صومالیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی نے سنہ 2024 میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے الشباب سے منسلک 20 واٹس ایپ گروپس بند کیے تھے جو بھتہ وصول کرنے اور شہریوں کو دھمکانے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے جبکہ ان سے وابستہ تقریباً 2,500 فون نمبروں کی ڈیٹا سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

احمد عثمان دیری کا کہنا تھا کہ صومالیہ کی حکومت پہلے ہی میٹا سے رابطہ کر چکی ہے اور امید ہے کہ اس معاملے پر جلد کسی متفقہ حل تک پہنچا جائے گا۔

واٹس ایپ کے مجوزہ یوزرنیم فیچر پر بھارت نے بھی اعتراض اٹھایا ہے۔ بھارت جہاں واٹس ایپ کے 85 کروڑ سے زائد صارفین موجود ہیں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فون نمبر چھپ جانے کی صورت میں جعلساز اور سائبر مجرم جعلی شناخت کے ذریعے لوگوں کو آسانی سے نشانہ بنا سکیں گے۔ بھارتی حکومت نے بھی میٹا سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کی تشفی تک اس فیچر کو متعارف نہ کرایا جائے۔

دوسری جانب واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا نے بتایا کہ یہ فیچر ابھی تک متعارف نہیں کرایا گیا اور صارفین کو اکاؤنٹ بنانے اور استعمال کرنے کے لیے بدستور فون نمبر درکار ہوگا۔ کمپنی کے مطابق نئے فیچر میں آن لائن فراڈ اور دھوکا دہی سے بچاؤ کے لیے مختلف حفاظتی اقدامات بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق واٹس ایپ کے مجوزہ یوزرنیم فیچر نے ایک بار پھر صارفین کی رازداری اور قومی سلامتی کے درمیان توازن سے متعلق بحث کو تیز کر دیا ہے اور آنے والے مہینوں میں اس فیچر کے عالمی اجرا سے قبل مختلف حکومتوں اور میٹا کے درمیان مزید مشاورت کا امکان ہے۔