راولپنڈی کے تھانہ پیرودھائی کے علاقے میں مدرسے جاتے ہوئے لاپتہ ہونے والی 15 سالہ بچی کی لاش خالو کے گھر سے برآمد ہوگئی۔ جب کہ پولیس نے نعش تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کردی۔ خالو موقع سے غائب بچی کے لاپتہ ہونے کا مقدمہ گزشتہ روز درج کروایا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ڈھوک نجو کے رہاہشی محمد فیصل نے بتایاکہ چار بچے ہیں بری بیٹی میمونہ 6 اکتوبر کو مدرسے کے لیے گئی لیکن واپس نہ آئی تو تلاش کے باوجود نہ ملی۔
پولیس نے بچی کے اغواء کے جرم میں مقدمہ درج کیا کہ بدھ کو بچی کی نعش پیرودھائی کے ہی علاقے میں اس کے خالو کے گھر سے ملی۔
پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ بچی کو بظاہر گلہ گھونٹ کر قتل کیاگیا تاہم شواید اکھٹے کرکے نعش کو پوسٹمارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
حتمی صورتحال پوسٹمارٹم میں واضع ہوگی معلوم ہواہے کہ بچی کا خالو جو خود بھی شادی شدہ اور تین بچوں کا باپ ہے پراسرار طور پر گھر سے غائب ہے بچی کی نعش ملنے کے واقعہ پر سی پی او حسن مشتاق سکھیرا نے نوٹس لیکر واقعہ میں ملوث ملزم/ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے کہا کہ یہ واقعہ خیابان سرسید ڈھوک نجو میں پیش آیا جہاں کم عمر لڑکی مبینہ زیادتی کے بعد قتل کردی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ گھر سے مدرسے جانے کیلئے نکلی تھی اور واپس نہیں آئی جب کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا جس کی شناخت ممریز کے نام سے ہوئی جو مقتولہ کا خالو بھی ہے۔
مزید پڑھیں:ڈی جی آئی ایس پی آر، سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستے تعینات ہیں
ایس ایس پی انویسٹیگیشن سیف اللہ خود موقع پر پہنچے پولیس ترجمان کا کہناتھاکہ بچی کے لاپتہ ہونے پر گزشتہ روز اغواء کا مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس فیملی کے ہمراہ تلاش میں مصروف تھی۔ موقع سے شواہد اکٹھےکرکے واقعہ کی تمام زاویوں پر تحقیقات کی جا رہی ہیں ملوث ملزم/ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔













بدھ 7 اکتوبر 2026 

