عمر بڑھنے کی رفتار کوکیسے سست کیا جائے؟ نئی سائنسی تحقیق آگئی

Calender Icon جمعہ 9 اکتوبر 2026

ماہرین صحت کی جانب سے کی جانے والی ایک وسیع طبی تحقیق کے مطابق صحت مند غذاؤں کا باقاعدہ استعمال انسان کی حیاتیاتی عمر (بیولوجیکل ایجنگ) بڑھنے کی رفتار کو سست کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اور اس مقصد کے لیے کسی ایک سخت ترین یا مخصوص ڈائٹ کے محتاج ہونے کے بجائے مختلف متوازن غذائی طریقوں سے یکساں اور شاندار طبی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں.

حال ہی میں شائع ہونے والی اس تفصیلی تحقیق کے مطابق محققین نے خوراک کے انسانی جسم کے خلیاتی نظام اور حیاتیاتی گھڑی پر پڑنے والے گہرے اثرات کا احاطہ کیا ہے. تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ جو لوگ اپنی روزمرہ خوراک میں سبزیاں، پھل، سابُت اناج اور مفید چکنائیوں کو ترجیح دیتے ہیں، ان کے خلیات میں بڑھتی ہوئی عمر کے منفی آثار سست روی کا شکار ہوتے ہیں. اس تحقیق کا ایک اہم ترین پہلو یہ ہے کہ حیاتیاتی عمر کو گھٹانے یا اسے قابو میں رکھنے کے لیے کوئی ایک حتمی یاواحد بہترین خوراک موجود نہیں ہے، بلکہ مختلف ثقافتی پس منظر اور ذاتی ترجیحات کے حامل افراد اپنے پسندیدہ متوازن غذائی پیٹرن کے ذریعے بھی یہ طبی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ معیاری خوراک جسم کے اندرونی نظام میں پیدا ہونے والی سوزش اور آکسیڈیٹیو سٹریس کو کم کرتی ہے، جو کہ قبل از وقت بڑھاپے اور مختلف پیچیدہ امراض کا سب سے بڑا سبب بنتے ہیں. ماہرین کا کہنا ہے کہ غذا میں موجود قدرتی اجزا اور اینٹی آکسیڈنٹس ڈی این اے اور خلیات کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت میں مددگار ثابت ہوتے ہیں. اس جامع مطالعے سے یہ روشن حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ انسان اپنی روزمرہ پلیٹ میں متوازن اور صحت بخش انتخاب کے ذریعے نہ صرف اپنی اندرونی صحت کو بہتر بناتا ہے بلکہ وہ بڑھتی ہوئی عمر کے باوجود ایک توانا، فعال اور طویل صحت مند زندگی کی ضمانت بھی حاصل کرتا ہے۔