سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیوں میں نرمی کی قرارداد مسترد کر دی

Calender Icon جمعہ 19 ستمبر 2025

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر اقتصادی پابندیاں مستقل طور پر اٹھانے کے خلاف ووٹ دے دیا، جو تہران کے لیے ایک بڑا اقتصادی دھچکا ہے، جسے ایران نے ’سیاسی جانبداری‘ قرار دیا۔
 قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سلامتی کونسل میں پابندیوں کو روکنے کی قرارداد 4 کے مقابلے میں 9 ووٹ سے ناکام ہو گئی، جس کا مطلب ہے کہ اگر اس سے پہلے کوئی بڑا معاہدہ نہ ہوا تو یورپی پابندیاں 28 ستمبر تک دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔
 روس، چین، پاکستان اور الجزائر نے پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو روکنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ سلامتی کونسل کے 9 اراکین نے پابندیوں میں نرمی کے خلاف ووٹ دیا، 2 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
 واضح رہے کہ اگست کے آخر میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے کہا تھا کہ اگر تہران مطالبات پورے نہ کرے تو پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی جائیں، جس کے بعد 30 روز کے بعد یہ عمل شروع ہوا۔
  ادھر ایرانی حکام نے الزام لگایا ہے کہ تین یورپی ممالک پر 2015 کے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے معاہدے کو غلط استعمال کر رہے ہیں، جو ’اسنیپ بیک میکانزم‘ کے تحت پابندیاں لگانے کی اجازت دیتا ہے۔
 ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا کہ ’جو کچھ یورپی کر رہے ہیں وہ سیاسی جانبداری اور سیاسی مقاصد پر مبنی ہے، اور وہ کئی حوالے سے غلط ہیں کیونکہ وہ مشترکہ جامع ایکشن پلان (جے سی او پی اے) میں شامل میکانزم کو غلط استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 یورپی ممالک نے یہ پیشکش کی تھی کہ اگر ایران اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو دوبارہ رسائی دے اور امریکا کے ساتھ بات چیت کرے تو وہ اسنیپ بیک عمل کو چھ ماہ تک مؤخر کر سکتے ہیں۔
 ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ تہران نے ایک ’مناسب اور قابلِ عمل منصوبہ‘ پیش کیا ہے اور زور دیا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے معاہدے پر عمل کرنے کے لیے پرُعزم ہے۔