میٹرک بورڈ کراچی:کیمسٹری پرچے نے طلبہ کو پریشان کر دیا

Calender Icon جمعہ 17 اپریل 2026

میٹرک بورڈ کراچی کے تحت نویں جماعت کے سالانہ امتحانات میں کیمسٹری کے پرچے نے طلبہ اور والدین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ پورا سال روایتی پیٹرن اور گزشتہ دس سال کے پرچوں کی بنیاد پر تیاری کی گئی، مگر امتحان میں زیادہ تر سوالات تصوراتی اور غیر متوقع نوعیت کے تھے۔

رپورٹس کے مطابق اس بار پرچے میں وہ روایتی سوالات شامل نہیں تھے جن کی طلبہ مسلسل مشق کرتے رہے، جیسے نومیریکلز اور بیلنسنگ ایکویشنز، جبکہ زیادہ تر سوالات گہری سمجھ بوجھ اور مختلف انداز میں سوچنے کے متقاضی تھے۔

طلبہ نے شکایت کی کہ سوالات کی نوعیت اس قدر مختلف تھی کہ کئی طلبہ کو یہ سمجھنے میں بھی دشواری ہوئی کہ سوال میں پوچھا کیا گیا ہے۔ بعض طلبہ نے مایوسی کے باعث کئی سوالات ادھورے چھوڑ دیے۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ کا ، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراجِ تحسین

ایک طالبہ نے بتایا کہ پہلے یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ کنسپچوئل پیپرز کا مکمل نفاذ اگلے سال سے ہوگا، جبکہ رواں سال امتحان زیادہ تر روایتی انداز میں لیا جائے گا، لیکن عملی طور پر اس کے برعکس ہوا۔

طلبہ کے مطابق پرچے کی انگریزی بھی غیر معمولی طور پر مشکل تھی، جس کی وجہ سے سوالات کو سمجھنا مزید دشوار ہو گیا اور انہیں یہ انداز کیمبرج طرز کے امتحان جیسا محسوس ہوا۔

والدین نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو بغیر پیشگی تیاری کے اس طرح کے تجربے سے گزارنا ناانصافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مارکنگ میں نرمی برتی جائے تاکہ طلبہ کا تعلیمی مستقبل متاثر نہ ہو۔

تعلیمی حلقوں اور نجی اسکولز ایسوسی ایشن نے بھی بورڈ کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اصلاحات مثبت قدم ضرور ہیں، مگر ان کے لیے مناسب منصوبہ بندی، اساتذہ کی تربیت اور طلبہ کی پیشگی رہنمائی ضروری ہوتی ہے۔

دوسری جانب ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے ناظم امتحانات نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پرچہ مکمل طور پر نصاب کے مطابق تھا اور کوئی سوال نصاب سے باہر نہیں دیا گیا، جبکہ سوالات کی زبان کو صرف اس لیے مختلف رکھا گیا تاکہ سمجھ کر پڑھنے والے طلبہ بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔

ادھر ایک اور تشویشناک پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ امتحان شروع ہونے سے قبل ہی کیمسٹری کا پرچہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جس پر طلبہ اور والدین نے نقل مافیا کی سرگرمیوں اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔