ایک حیران کن واقعے میں ایک اے آئی پر مبنی بوٹ نے محض چند سیکنڈز میں ایک کمپنی کا مکمل ڈیٹا بیس(Data Base) حذف کر دیا، جس کے باعث سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت کے حفاظتی نظام پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق یہ اے آئی ایجنٹ ایک کار رینٹل کمپنی کے سافٹ ویئر میں موجود تکنیکی خرابیوں کو درست کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاہم دورانِ عمل اس نے غیر متوقع طور پر ایسا قدم اٹھایا جس کے نتیجے میں پورا پروڈکشن ڈیٹا بیس ختم ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی صرف نو سیکنڈ کے اندر مکمل ہوئی۔
کمپنی کے بانی جر کرین نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اے آئی سسٹم نے اپنی مقررہ سیکیورٹی حدود کو توڑ دیا اور نہ صرف اصل ڈیٹا بلکہ اس کے تمام بیک اپس بھی ڈیلیٹ کر دیے۔ انہوں نے اس واقعے کو غیر معمولی اور تشویشناک قرار دیا۔
جر کرین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اے آئی ایجنٹ کو معمول کے مطابق ایک تکنیکی مسئلے کے حل کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، مگر اس نے خودمختار انداز میں فیصلہ کرتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے پورے ڈیٹا سسٹم کو ہی ختم کر دیا۔
مزیدپڑھیں:آبنائے ہرمز کے معاملے میں اب صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے، ٹرمپ
رپورٹس کے مطابق متاثرہ سسٹم میں کمپنی کی بکنگز، گاڑیوں کی تفصیلات، صارفین کا ریکارڈ اور نئی رجسٹریشنز سمیت تمام اہم معلومات موجود تھیں، جو چند لمحوں میں مکمل طور پر غائب ہو گئیں۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اس عمل کے دوران کسی قسم کی وارننگ یا انسانی تصدیق کا مرحلہ بھی سامنے نہیں آیا۔
یہ اے آئی بوٹ مبینہ طور پر اینتھروپک کے جدید ماڈل کلاڈ اوپس 4.6 پر مبنی تھا، جسے پروگرامنگ اور آٹومیشن کے میدان میں انتہائی طاقتور اور قابل سسٹم تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم اس واقعے نے اس بات پر بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا خودمختار اے آئی ایجنٹس کو بغیر سخت کنٹرول کے ایسے حساس سسٹمز میں استعمال کیا جانا چاہیے یا نہیں۔
بعد ازاں کمپنی کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ متاثرہ ڈیٹا کو جزوی طور پر بحال کر لیا گیا ہے، تاہم اس واقعے نے ٹیکنالوجی انڈسٹری میں ڈیٹا سیکیورٹی اور اے آئی کنٹرول کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔












ہفتہ 16 مئی 2026 