اقوام متحدہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے مستقل مندوب امیر سعید اراوانی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ کشیدہ صورتِ حال اور اس کے عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کی ذمہ داری اُن طاقتوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کو دو ایسے جارحانہ اقدامات کا سامنا کرنا پڑا جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھے۔ ان کے بقول ان کارروائیوں کے اثرات صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے اور عالمی معیشت پر بھی دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔
مزید پڑھیں؛ٹرمپ کا دعویٰ: پاکستان کی درخواست پر ایران سے جنگ بندی پر آمادہ ہوئے
ایرانی مندوب نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال عالمی تجارتی سرگرمیوں اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ اس کے معاشی نتائج دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔
امیر سعید اراوانی کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے، تاہم خطے میں پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی برادری کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔












ہفتہ 16 مئی 2026 