نقبہ سے غزہ کی تباہی تک: ایک فلسطینی کی درد بھری زندگی

Calender Icon ہفتہ 16 مئی 2026

شمالی غزہ (Northern Gaza) کے جبالیہ کیمپ میں 85 سالہ عبدالمہدی الوحیدی آج بھی اپنے جزوی تباہ شدہ گھر کے ملبے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ 1948 کے نقبہ کے دوران بچپن میں اپنے آبائی شہر بیر السبع سے بے دخل ہونے والے عبدالمہدی کہتے ہیں کہ موجودہ غزہ جنگ کی تباہی اُن تمام مصائب سے کہیں زیادہ خوفناک ہے جو انہوں نے اپنی زندگی میں دیکھے۔

وہ یاد کرتے ہیں کہ ان کا خاندان صرف چند ہفتوں بعد واپسی کی امید پر غزہ آیا تھا، مگر یہ ہجرت ہمیشہ کی جلاوطنی بن گئی۔ جبالیہ کیمپ میں خیموں، بھوک، بیماری اور تنگدستی کے دن آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہیں۔

مزید پڑھیں؛ایرانی صدر کا امریکی حملوں پر مؤقف اپنانے پر پوپ لیو سے اظہارِ تشکر

عبدالمہدی نے برسوں محنت کر کے گھر اور زمین بنائی، لیکن حالیہ جنگ میں سب کچھ دوبارہ تباہ ہو گیا۔ ان کے مطابق اسرائیلی حملوں نے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا اور لوگ بار بار نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

وہ کہتے ہیں کہ جنگ کے دوران وہ اپنی ضعیف اہلیہ کے ساتھ کئی بار بے گھر ہوئے، خیموں میں رہے اور شدید خوف و بھوک کا سامنا کیا۔ ان کے بقول نقل مکانی انسان سے اس کی عزت اور سکون چھین لیتی ہے۔

تمام تر تباہی اور مشکلات کے باوجود عبدالمہدی اپنے وطن سے جڑے رہنے کے عزم پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں دنیا کی بڑی سے بڑی آسائش بھی مل جائے تو وہ اپنا وطن چھوڑنے پر تیار نہیں ہوں گے۔