دنیا میں ہر دسواں شخص انتہائی غریب، 2.3 ارب افراد بھوکے سوتے ہیں: اقوام متحدہ

Calender Icon ہفتہ 18 جولائی 2026

اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد(Amina Muhammad) نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں اب بھی ہر 10 میں سے ایک شخص انتہائی غربت کا شکار ہے، 2.3 ارب افراد ہر رات بھوکے سوتے ہیں۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اقتصادی و سماجی کونسل (ECOSOC) کے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امینہ محمد نے کہا کہ 2026 کی پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کے مطابق ایک تہائی سے زائد اہداف یا تو درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں یا ان پر معتدل پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم مختلف اہداف اور ممالک کے درمیان پیش رفت میں نمایاں تفاوت موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بجلی تک رسائی دنیا کی 92 فیصد آبادی تک پہنچ چکی ہے، جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کا تناسب 2015 میں 40 فیصد سے بڑھ کر اب 74 فیصد ہو گیا ہے۔

مزیدپڑھیں:سمے رائنا کی ’مسٹری گرل‘ بہترین دوست کی بیوی نکلی

امینہ محمد نے کہا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف آج بھی انتہائی اہم ہیں اور ان کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں تاہم دنیا 2015 کے مقابلے میں بہت مختلف ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، معاشی غیر یقینی صورتحال، موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع میں کمی، غذائی عدم تحفظ، قرضوں کے بحران اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات جیسے باہم جڑے ہوئے مسائل پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کی رفتار سست کر رہے ہیں، جبکہ زمین تیزی سے گرم ہو رہی ہے اور پرتشدد تنازعات کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط، سرمایہ کاری میں اضافہ اور ایسے جامع حل اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو بیک وقت متعدد پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں مددگار ہوں۔

امینہ محمد نے 2027ء کے ایس ڈی جی سربراہی اجلاس کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس محض پیش رفت کا جائزہ لینے تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ 2030 تک پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے عملی نتائج اور نئے سیاسی عزم کا مظہر بننا چاہئے۔