نیپال سیلاب: انجینیئرز کا واٹس ایپ گروپ کیسے ریسکیو آپریشن میں مدد کر رہا ہے؟

Calender Icon جمعہ 4 ستمبر 2026

نیپال(Nepal) میں گزشتہ ہفتے آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی کارکن لاپتا افراد کی تلاش کے لیے تباہ شدہ پن بجلی گھروں کی سرنگوں میں دن رات کام کر رہے ہیں، جبکہ انجینئرز کا ایک بڑا واٹس ایپ گروپ انہیں سرنگوں کے پیچیدہ نظام کو سمجھنے اور ممکنہ زندہ افراد تک پہنچنے میں مدد دے رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق 26 اگست کو دریائے تریشولی کی وادی میں اچانک آنے والے سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ پانی، کیچڑ اور چٹانوں کا ایک بڑا ریلا اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز، یہاں تک کہ تنصیبات کو بھی بہا لے گیا۔ اس سے قبل انجینئرز نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا ہوا تھا جو اب امدادی کارروائیوں کے لیے ایک اہم رابطے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ اس گروپ میں 500 سے زائد افراد شامل ہیں، جن میں انجینئرز، سرکاری حکام اور دیگر ماہرین باہم رابطے میں ہیں۔

حکام کو امید ہے کہ چھ پن بجلی منصوبوں سے لاپتا ہونے والے تقریباً 900 افراد میں سے کچھ لوگ سیلاب سے بچنے کے لیے سرنگوں میں پناہ لینے میں کامیاب ہوئے ہوں گے۔ ان منصوبوں میں کم از کم تین زیر تعمیر تھے۔ تاہم سرنگوں تک پہنچنا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے کیونکہ سیلاب اپنے ساتھ تقریباً 22 لاکھ ٹن کیچڑ اور ملبہ لے آیا، جس نے کئی راستے مکمل طور پر بند کر دیے ہیں۔

ہفتے کے روز ایک سرکاری اہلکار نے انجینئرز کے گروپ میں چِلیمے پن بجلی منصوبے کے نقشے طلب کیے۔ چند ہی منٹ بعد ایک ماہر نے منصوبے کے پاور ہاؤس اور سرنگوں تک رسائی کے راستوں کے نقشے گروپ میں بھیج دیے۔ امدادی ٹیمیں انہی معلومات کی مدد سے تباہ شدہ علاقے میں سرنگوں کے راستوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اب تک چِلیمے کے 22 میگاواٹ کے منصوبے یا وادی میں موجود دیگر بجلی گھروں کی سرنگوں سے کسی زندہ شخص کو تلاش نہیں کیا جا سکا۔ تاہم نیپال کے آزاد بجلی پیدا کرنے والوں کی تنظیم کے مطابق چِلیمے میں کم از کم آٹھ افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی کے ایک اہلکار کے مطابق راسوواگڑھی پن بجلی منصوبے میں بھی 46 افراد کے پھنسے ہونے کا امکان ہے۔

مزیدپڑھیں:پاکستانی کرکٹر کا بادشاہ چارلس کے ساتھ ملاقات سے انکار: برطانوی میڈیا کا دعویٰ

نیپال کی فوج کے ترجمان راجا رام بسنت نے رائٹرز کو بتایا کہ سیلاب نے سرنگوں کے اردگرد کی زمین اور خود سرنگوں کی ساخت کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق سرنگوں کے اندر کیچڑ، چٹانیں، مٹی اور دیگر ملبہ جمع ہو چکا ہے، اس لیے موجودہ صورتِ حال کو سرنگوں کے عام طور پر بند ہونے سے مختلف سمجھا جا رہا ہے۔

راسوواگڑھی منصوبے میں امدادی کارکن ایک سرنگ کے اندر تقریباً 250 میٹر تک پہنچے، لیکن آگے راستہ ملبے سے بند ملا۔ اس کے باوجود تلاش جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی کے بورڈ رکن امشو کرن شاہی کے مطابق امدادی ٹیم دوبارہ اندر جانے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ کچھ افراد ایک ایسے حصے میں موجود ہو سکتے ہیں جہاں انہیں خوراک اور پانی تک رسائی حاصل ہو۔

امدادی کارکنوں نے سرنگوں کے راستوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے سابق ملازمین اور منصوبوں سے وابستہ افراد سے بھی رابطہ کیا۔ ایسے وقت میں واٹس ایپ گروپ بےحد مددگار ثابت ہورہا ہے جس میں شیئر کیے گئے نقشوں کو اس سلسلے میں مفید قرار دیا گیا ہے۔

اپر تریشولی تھری اے منصوبے میں امدادی کارکنوں کو سرنگ کے داخلی راستے تک پہنچنے میں تقریباً چھ دن لگے کیونکہ راستہ مکمل طور پر ملبے تلے دب گیا تھا۔ حکام نے ممکنہ طور پر اندر پھنسے افراد تک آکسیجن پہنچانے کے لیے پائپوں کے ذریعے ہوا فراہم کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ امدادی ٹیمیں بھاری مشینری سے بڑے بڑے پتھر ہٹا کر سرنگ کے اندر مزید آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

سیلاب سے بچ نکلنے والے افراد نے بھی سرنگوں کے اندر پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات بتائی ہیں۔ اپر تریشولی ون منصوبے کے سول انجینئر جن جیون ٹھاکر نے بتایا کہ سیلاب آنے سے چند لمحے پہلے ایک ساتھی نے انہیں خطرے سے آگاہ کیا، جس کے بعد وہ تقریباً 100 دیگر افراد کے ساتھ بلند مقام کی طرف بھاگ گئے۔ ان کے مطابق چند منٹ بعد جب انہوں نے نیچے دیکھا تو پورا علاقہ ملبے تلے دب چکا تھا۔

اسی منصوبے سے وابستہ دھن بہادر تمانگ نے بتایا کہ سیلاب کے دوران وہ ایک سرنگ کے راستے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے مطابق پانی کے ساتھ پائپ اور دیگر سامان بھی سرنگ کے اندر بہہ آیا تھا۔ سرنگوں کے نظام سے واقفیت کی وجہ سے وہ اور چند دیگر افراد باہر نکل سکے، تاہم اس دوران انہوں نے لاشیں بھی دیکھیں۔

انجینئرز کے واٹس ایپ گروپ میں لاپتا کارکنوں کے نام اور موبائل فون نمبرز بھی شیئر کیے جا رہے ہیں۔ ان معلومات کو حکام کے ذریعے ٹیلی کمیونیکیشن اداروں تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ممکن ہو تو لاپتا افراد کے موبائل فون کی آخری معلوم لوکیشن کا سراغ لگایا جا سکے۔

دوسری جانب لاپتا افراد کے اہل خانہ امدادی کارروائیوں کے نتائج کے منتظر ہیں۔ اپر تریشولی ون منصوبے سے وابستہ 30 سالہ ماحولیاتی انجینئر راجیش شریستھا بھی لاپتا افراد میں شامل ہیں۔ ان کے والد راجیش کے گھر واپس آنے کی امید لیے انتظار کر رہے ہیں۔

یہ سیلاب نیپال کے لیے جانی نقصان کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے کے لیے بھی بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے۔ تباہی نے ملک کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا تقریباً 10 فیصد متاثر کیا ہے۔

اس تباہ کن سیلاب میں 1,200 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ 4,000 سے زیادہ افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ لاپتا افراد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ممکنہ طور پر پن بجلی گھروں کی سرنگوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

سرنگوں میں ممکنہ زندہ افراد کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ امدادی ٹیمیں بھاری مشینری، ہیلی کاپٹروں اور مقامی معلومات کے ساتھ ساتھ انجینئرز کی جانب سے واٹس ایپ پر فراہم کی جانے والی فوری رہنمائی کی مدد سے ملبے کے نیچے زندگی کا کوئی بھی نشان تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔