کچھ کھلاڑیوں کو شہرت ملتی ہے تو وہ سیکھنا بھول جاتے ہیں: محسن نقوی

Calender Icon ہفتہ 24 اکتوبر 2026

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا ہے کہ بعض کھلاڑیوں کو جب شہرت حاصل ہوتی ہے تو وہ کھیل کی بنیادی باریکیاں اور مسلسل سیکھنے کا عمل بھول جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس میں مستقل مزاجی اور محنت جاری رکھنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے، جبکہ برا وقت آنے پر محنت چھوڑ دینے والے کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کو زائل کر بیٹھتے ہیں۔

لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے ملکی کرکٹ کے ڈھانچے، کھلاڑیوں کی تربیت اور ڈومیسٹک کرکٹ میں اصلاحات کے حوالے سے کھل کر گفتگو کی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران ایسے متعدد کرکٹرز دیکھے ہیں جو ذرا سی شہرت ملنے پر سیکھنے کے عمل سے دور ہو جاتے ہیں یا مشکل وقت کا سامنا ہوتے ہی محنت کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، تاہم اس ٹیلنٹ کو تلاش کر کے بین الاقوامی معیار کے مطابق پالش کرنا ایک سخت اور مشکل کام ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی ٹیلنٹ کی نکھار کا یہ کام پی سی بی اکیلے سرانجام نہیں دے سکتا، اس کے لیے تمام فرنچائزز، ریجنل ایسوسی ایشنز اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے بورڈ کے اندرونی نظام میں کی گئی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ “ہم نے اپنے آپ کو ٹھیک کیا ہے اور اس کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے”۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ڈومیسٹک کرکٹ میں سفارش کا کلچر بالکل ختم کر دیا گیا ہے اور صرف میرٹ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

تعلیمی اداروں کے ٹیلنٹ اور خواتین کے کھیلوں پر بات کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کھیلوں کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی بچیاں بھی کھیلوں کے میدان میں بچوں کے شانہ بشانہ آگے آئیں اور ملک کا نام روشن کریں۔

تقریب کے اختتام پر چیئرمین پی سی بی نے پاکستان سپر لیگ (PSL) کی فرنچائز لاہور قلندرز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پلیئرز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نچلی سطح سے نیا ٹیلنٹ سامنے لانے کے لیے لاہور قلندرز سب سے آگے اور ایک لیڈنگ فرنچائز کے طور پر بہترین کام کر رہی ہے۔