امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے ایران سے جنگ بندی مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان آنے والے امریکی وفد کا دورہ عین وقت پر مؤخر کرتے ہوئے وفد کو روانگی سے روک دیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اس مرحلے پر امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پاکستان نہیں جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اس وقت مذاکراتی عمل میں مضبوط پوزیشن پر ہے اور “تمام پتّے ہمارے ہاتھ میں ہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو وہ براہِ راست رابطہ کر سکتا ہے، تاہم اب صرف رسمی گفتگو یا زبانی یقین دہانیوں کے لیے 18 گھنٹے کی طویل پرواز نہیں کی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان میں اہم ملاقاتوں کے بعد مسقط روانہ ہو چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ امریکی وفد کے انتظار کے بجائے اپنے اگلے سفارتی مرحلے کی جانب روانہ ہوئے۔
اس فیصلے نے خطے میں جاری سفارتی کوششوں کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے، خصوصاً اس پس منظر میں کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی پل کا کردار ادا کر رہا تھا۔ مبصرین کے مطابق امریکی وفد کے دورے کی منسوخی سے مذاکرات کے اگلے مرحلے میں تاخیر کا امکان بڑھ گیا ہے، تاہم سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔
مختصراً، یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن اب زمینی سفارت کاری کے بجائے دباؤ اور براہِ راست رابطے کی حکمت عملی کو ترجیح دے رہا ہے، جبکہ پاکستان کی ثالثی کوششیں بدستور اہمیت رکھتی ہیں۔












ہفتہ 25 اپریل 2026 