فرانس نے آبنائے ہرمز(strait of hormuz) میں بارودی سرنگوں کی صفائی اور بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے مائن ہنٹرز (بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے بحری جہاز) تعینات کر دیے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ فرانس کے مائن ہنٹرز اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی اور جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں۔
صدر میکرون نے بتایا کہ عمانی حکام سے مشاورت کے بعد فرانسیسی طیارہ بردار بحری جہاز چارلس ڈیگال کو بندرگاہ واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم بارودی سرنگوں سے نمٹنے والے فرانسیسی بحری اثاثے اور ان کا حفاظتی دستہ علاقے میں تعینات رہیں گے اور کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں گے۔
مزیدپڑھیں:طالبان رجیم کی بڑھتی عالمی سفارتی تنہائی،افغانستان کیلیے امدادی فنڈز میں ریکارڈ کمی
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں ایران نے آبنائے ہرمز میں فرانسیسی شمولیت کو مسترد کر دیا تھا، جب صدر میکرون نے اس منصوبے کا اعلان کیا تھا، تاہم فرانس نے اب اس مشن کے تحت اپنی بحری صلاحیتوں کو علاقے میں فعال کر دیا ہے۔












ہفتہ 4 جولائی 2026 