چینی حکومت اپنی جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کو اسٹریٹجک اثاثہ قرار دیتے ہوئے غیر ملکی صارفین کی رسائی محدود کرنے پر غور کر رہی ہے جبکہ امریکا بھی قومی سلامتی کے خدشات کے باعث اپنی جدید اے آئی ٹیکنالوجی پر برآمدی پابندیاں سخت کر چکا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیجنگ نے حالیہ ہفتوں میں ملک کی نمایاں ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مشاورت شروع کی ہے تاکہ چین کے جدید ترین مصنوعی ذہانت ماڈلز تک بیرونِ ملک رسائی محدود کرنے کے لیے ممکنہ پالیسی تیار کی جا سکے۔ یہ اقدام اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت چین حساس اے آئی ٹیکنالوجی کو ملک کے اندر محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ڈیپ سیک کے آر-1 ماڈل کی کامیابی کے بعد کم لاگت اور بہتر کارکردگی کے باعث چینی اے آئی ماڈلز دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہوئے ہیں۔ تاہم اگر چین ان ماڈلز تک غیر ملکی رسائی محدود کرتا ہے تو عالمی اے آئی مارکیٹ پر اس کے نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور متعدد کمپنیوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا عندیہ، اب قیمتیں کیسے طے ہوں گی؟
چینی حکام کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی کا غیر مناسب استعمال قومی سلامتی کے قوانین کی خلاف ورزی بن سکتا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت اس امکان کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ ملکی اے آئی اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کرنے والوں پر نئی پابندیاں عائد کی جائیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ قواعد کا دائرہ کار ابھی زیر غور ہے اور امکان ہے کہ ان کا اطلاق صرف آئندہ آنے والے جدید اے آئی ماڈلز پر ہو۔
دوسری جانب امریکا بھی مصنوعی ذہانت کو قومی سلامتی سے جوڑ رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ امریکی اے آئی ماڈلز کو چین، روس اور دیگر ممالک عسکری یا انٹیلی جنس مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، جس کے باعث جدید اے آئی ٹیکنالوجی کی برآمد اور رسائی پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔












بدھ 8 جولائی 2026 