شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان میں ایکسیس ٹو فائنانس پلان (EXCESS TO FINANCE)کے فروغ کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں مالی سہولیات تک رسائی بڑھانے، ترجیحی شعبوں کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو ایکسیس ٹو فائنانس پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ معاشی استحکام سے پائیدار معاشی ترقی کے سفر کو تیز کرنے کے لیے مالی سہولیات کی فراہمی کو وسعت دینا اور اسے قومی سطح پر مرکزی دھارے کا حصہ بنانا بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔
پلان کا مرکزی نکتہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، زراعت، برآمدات، قابلِ تجدید توانائی، ہاؤسنگ اور آئی ٹی کے شعبوں کے لیے آسان قرضوں اور کریڈٹ تک رسائی میں اضافہ ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد برآمدات میں اضافہ، پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
بریفنگ کے مطابق پلان پر عملدرآمد کے لیے وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل پورے نظام پر مبنی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ نئے گورننس اسٹرکچر کے تحت وزیرِ خزانہ سربراہی کریں گے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک شریک سربراہ ہوں گے۔ اس نظام کے تحت باقاعدگی سے اجلاس منعقد ہوں گے اور وزیراعظم کو ہر ماہ پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ آئندہ دو سال کے لیے مختلف شعبوں میں مالی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے پرعزم اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ ان اہداف کے مطابق نجی شعبے کے قرضوں میں ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ موجودہ 7 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کیا جائے گا، جبکہ ایس ایم ای شعبے میں قرض حاصل کرنے والے کاروباروں اور مستفید افراد کی تعداد 3 لاکھ 10 ہزار سے بڑھا کر 7 لاکھ 50 ہزار تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے بینک ترجیحی شعبوں، بالخصوص ایس ایم ایز، کو قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ آسان شرائط پر مالی سہولیات کی دستیابی سے برآمدات میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع کی فراہمی اور پائیدار معاشی ترقی ممکن ہوگی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ مالی سہولیات کی فراہمی میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ایکسیس ٹو فائنانس پلان پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ہر ماہ اجلاس کی خود صدارت کریں گے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت مالی سہولیات تک رسائی میں اضافہ کرکے معیشت کو مزید مضبوط، متحرک اور برآمدات پر مبنی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
مزید پڑھیں:ہڑپہ ، بینک ملازمین کی ملی بھگت، کروڑوں کا سونا گینگ ہڑپ کر گیا؛ 1ملزم گرفتار
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، پاکستانی بینکوں کے صدور و سی ای اوز، صوبائی چیف سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔












جمعہ 10 جولائی 2026 