الٹرا آرتھوڈوکس بھرتی تنازع: اسرائیلی حکومت سیاسی بحران کے قریب

Calender Icon ہفتہ 16 مئی 2026

اسرائیل (Israel) میں الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کی فوجی بھرتی سے استثنیٰ کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے باعث حکومتی اتحاد میں دراڑیں گہری ہو رہی ہیں اور قبل از وقت انتخابات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات بڑھنے کے بعد حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، اور اگر کنیسٹ میں آئندہ ووٹنگ منظور ہو جاتی ہے تو چند ماہ میں نئے عام انتخابات کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

الٹرا آرتھوڈوکس جماعتوں کا مؤقف ہے کہ ان کے مذہبی طلبہ کو فوجی خدمات سے استثنیٰ حاصل رہنا چاہیے، جبکہ اسرائیلی قانون اور عدالتی فیصلوں کے مطابق زیادہ تر شہریوں کے لیے فوجی خدمت لازمی ہے۔

مزید پڑھیں؛ٹرمپ کا چین سے متعلق مؤقف میں بڑی تبدیلی، سخت بیانات کے بعد نرم رویہ اختیار

دوسری جانب حالیہ برسوں میں فوجی کارروائیوں اور خطے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث اسرائیلی فوج کو اضافی افرادی قوت کی شدید ضرورت کا سامنا ہے، جس نے اس تنازع کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

اسرائیلی آرمی چیف نے بھی قانون سازوں کو خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں فوج پر دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے اور نئی بھرتیوں کے بغیر صورتحال کو برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔

یہ معاملہ اسرائیلی سیاست میں ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں ایک طرف مذہبی جماعتیں اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور دوسری طرف حکومت اور اپوزیشن دونوں میں بھرتی کے نظام میں برابری کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔