حکومت کا گاڑیوں کیلئے 7 سالہ اقساط اور ایک کروڑ روپے تک قرض دینے کا منصوبہ

Calender Icon بدھ 13 مئی 2026

وفاقی حکومت نے آئندہ آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی (AIDEP) 2026-31 کے تحت عوام کو سستی اور آسان گاڑی فنانسنگ فراہم کرنے کے لیے اہم اصلاحات پر غور شروع کر دیا ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت گاڑیوں کی خریداری کے لیے قرضوں کی مدت سات سال تک بڑھانے اور دس ملین روپے تک فنانسنگ کی سہولت دینے کی تجاویز زیر غور ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور آٹو انڈسٹری سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مختلف تجاویز پر مشاورت جاری ہے، جن کا مقصد گاڑیوں کی خریداری میں کمی کے رجحان کو روکنا اور متوسط طبقے کے لیے نئی گاڑیوں تک رسائی آسان بنانا ہے۔

مجوزہ اہم تجاویز

پالیسی کے تحت جن اہم تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے ان میں:

آٹو فنانسنگ کی مدت پانچ سال سے بڑھا کر سات سال کرنا
کم از کم ڈاؤن پیمنٹ کو 30 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد تک لانا
مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں کے لیے 1 کروڑ روپے تک فنانسنگ کی حد مقرر کرنا

شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند شرح سود، سخت قرضہ جاتی شرائط اور گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث آٹو فنانسنگ شدید متاثر ہوئی، جس سے گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

صارفین کے لیے نئی سہولتیں

مجوزہ پالیسی میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی متعدد اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق:

گاڑی بکنگ کے بعد قیمت فکس رہے گی
30 دن سے زائد تاخیر پر کمپنیوں کو KIBOR + 3 فیصد کے حساب سے جرمانہ ادا کرنا ہوگا
ایڈوانس بکنگ رقم کی حد 20 فیصد مقرر ہوگی
وارنٹی کی ذمہ داری مقامی مینوفیکچررز یا مجاز درآمد کنندگان پر ہوگی
3S ڈیلرشپس پر اسپیئر پارٹس پر زیادہ سے زیادہ 20 فیصد منافع کی اجازت ہوگی

مزیدپڑھیں:راولپنڈی،روٹی، نان، پراٹھے اور چائے کی نئی سرکاری قیمتوں کا اعلان

درآمدی گاڑیوں سے متعلق تجاویز

پالیسی میں استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کے حوالے سے بھی ریگولیٹڈ لبرلائزیشن کی تجاویز شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق:

گاڑیوں کی لازمی انسپیکشن اور سرٹیفکیشن ہوگی

ٹیرف پریمیم کو مرحلہ وار 40 فیصد سے کم کر کے 2030 تک صفر کیا جائے گا
گاڑیوں کی قیمت میں ڈیپریسی ایشن کی حد 30 فیصد مقرر ہوگی

مقامی آٹو انڈسٹری کو فروغ

حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی پالیسی سے مقامی آٹو انڈسٹری کو فروغ ملے گا، گاڑیوں کی مقامی تیاری میں اضافہ ہوگا اور درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے گا۔ ساتھ ہی وینڈر انڈسٹری اور متعلقہ کاروباری شعبوں میں بھی معاشی سرگرمیوں میں بہتری متوقع ہے۔

2031 تک کے بڑے اہداف

مجوزہ پالیسی میں 2031 تک کئی بڑے اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جن میں:

سالانہ 5 لاکھ سے زائد گاڑیوں کی پیداوار
ایک ارب ڈالر کی آٹو ایکسپورٹس
نئی گاڑیوں کی فروخت میں 30 فیصد نیو انرجی وہیکلز (NEVs) کا حصہ
سالانہ ایک لاکھ ٹریکٹرز کی تیاری
ملک بھر میں 3 ہزار ای وی چارجنگ اسٹیشنز کا قیام

شامل ہیں۔

الیکٹرک گاڑیوں پر خصوصی توجہ

پالیسی میں الیکٹرک اور نیو انرجی گاڑیوں کے فروغ کے لیے بھی مختلف مراعات تجویز کی گئی ہیں، جن میں:

اسلام آباد میں رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس میں استثنیٰ
ٹول ٹیکس میں ممکنہ رعایت
سرکاری اداروں میں الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری
اسلام آباد الیکٹرک موبیلیٹی سٹی منصوبہ
2027 سے روایتی ایندھن والی گاڑیوں کو مرحلہ وار NEVs میں تبدیل کرنے کی اسکیم

شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ تمام تجاویز فی الحال ڈرافٹ مرحلے میں ہیں اور حتمی منظوری سے قبل ریگولیٹری جائزے، بینکنگ سیکٹر سے مشاورت اور کابینہ کی متعلقہ کمیٹیوں سے منظوری لی جائے گی۔