امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے معاملے پر ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی اور تجارت کے نظام کے لیے بھی سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم چین کی جانب سے اس دعوے کی کوئی باضابطہ یا واضح تصدیق سامنے نہیں آئی۔ بیجنگ کی خاموشی نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ چین اس وقت بھی ایرانی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
بیجنگ سے واپسی کے دوران ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ ایرانی تیل درآمد کرنے والی چینی کمپنیوں پر عائد امریکی پابندیوں میں نرمی کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق عالمی توانائی منڈی میں استحکام اور سیاسی حالات کے پیش نظر بعض فیصلوں پر نظرثانی ناگزیر ہو سکتی ہے۔
مزیدپڑھیں:کانگو میں ایبولا وبا شدت اختیار کرنے لگی، عالمی تشویش میں اضافہ
ٹرمپ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ آیا چینی صدر نے ایران پر دباؤ ڈالنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے کوئی واضح یقین دہانی کرائی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ کسی سے احسان نہیں مانگ رہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی سیاست میں ہر اقدام کے بدلے میں ایک ردعمل آتا ہے، اس لیے وہ کسی بھی قسم کے غیر متوازن تعلقات سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب خطے کی صورتحال پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا نے گزشتہ ماہ ایران کے خلاف براہ راست حملے روک دیے تھے، تاہم بحری راستوں کی نگرانی اور ناکہ بندی سے متعلق ایک متنازع حکمت عملی اب بھی جاری ہے، جسے بعض ذرائع غیر رسمی طور پر “آپریشن فریڈم” سے جوڑ رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اس وقت تک تبدیل نہیں ہو سکتی جب تک امریکا اپنی ناکہ بندی اور دباؤ کی پالیسی ختم نہیں کرتا۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر ایران نے مذاکرات سے انکار کیا یا کشیدگی کم کرنے پر آمادگی ظاہر نہ کی تو امریکا اپنے صبر کی حد تک پہنچ جائے گا اور اس کے بعد ممکنہ فوجی کارروائی کا آپشن بھی زیر غور آ سکتا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی منڈیوں، خصوصاً تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔












ہفتہ 16 مئی 2026 